نئی دہلی، 14؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی)کانگریس کے رہنما کپل سبل نے پارٹی قیادت پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے ہیں۔ جتن پرساد ک بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد پارٹی میں بقیہ 22 رہنماؤں میں سے ایک سبل نے کہا ہے کہ ملک کے پاس سیاسی متبادل کا فقدان ہے، ملک کو ایک مضبوط، قابل اعتماد اپوزیشن کی سخت ضرورت ہے۔
پارٹی میں اصلاحات کی ضرورت کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ایک سرگرم اورمتحرک کانگریس کی ضرورت ہے، اورپارٹی کو یہ ظاہر کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ فعال اور بامقصد طریقے سے کام کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ کانگریس کو جلد تنظیمی انتخابات کرانے کی ضرورت ہے،یہ ظاہر کرنے کیلئے مرکزی اور ریاستی سطح پر جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس میں تجربہ کاراور نوجوان لیڈروں کے مابین توازن برقرار رکھنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ کپل سبل کانگریس رہنماؤں کے جی 23 گروپ میں شامل کلیدی ممبروں میں سے ایک ہیں، جنھوں نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو خط لکھ کر تنظیم میں اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا۔ اس وقت راہل گاندھی نے خط لکھنے والے قائدین کو بی جے پی کے مددگار کے طور پر بتایا تھا۔ ان رہنماؤں میں گاندھی خاندان کے قریبی رہنما غلام نبی آزاد اور آنند شرما بھی شامل ہیں۔بہار انتخابات کے بعد، سبل نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بہار اور ضمنی انتخابات کے نتائج سے ایسا لگتا ہے کہ ملک کے لوگ کانگریس کو ایک مؤثر متبادل نہیں مان رہے ہیں۔ ہمیں گجرات کے ضمنی انتخابات میں ایک بھی نشست نہیں ملی۔ لوک سبھا انتخابات میں بھی یہی حال تھا۔ اترپردیش کے ضمنی انتخابات کی کچھ نشستوں پر، کانگریس امیدواروں کو 2فیصد سے بھی کم ووٹ ملے۔
سبل نے کہنا تھاکہ اس کے بعد بھی پارٹی نے اپنے اندرسدھارنہیں کی تو اب آپ اس کی توقع کیسے کرسکتے ہیں؟ ہم کمزوریوں کو جانتے ہیں، ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ تنظیم کی سطح پر کیا پریشانی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ سبھی اس کا حل بھی جانتے ہوں، لیکن اس کو اپنانا نہیں چاہتے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پارٹی کوپریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہر کوئی کانگریس کی حالت زار سے پریشان ہے۔
حالیہ انتخابات میں کانگریس کی حالت: 5 ریاستوں میں حالیہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو کسی ایک ریاست میں بھی کوئی بڑی کامیابی نہیں ملی۔ بنگال میں اسے ایک بھی نشست نہیں ملی۔ آسام میں، پارٹی کو لگاتار دوسری بار بی جے پی اتحاد کے سامنے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کیرلا میں، یہ حکمران بائیں محاذ پر قابو نہیں پاسکتی ہے۔ تمل ناڈو میں کانگریس ڈی ایم کے کی حکومت میں شامل ہے۔